فقہ شافعی سوال نمبر / 1324 اگر کسی علاقے میں چھ مہینے دن اور چھ مہینے رات ہو، یا سورج طویل مدت تک طلوع یا غروب رہے، تو ایسے مقام پر روزہ کس طرح رکھا جائے گا؟ جن علاقوں میں دن اور رات کے معمول کا نظام متعین نہ ہو یعنی 6 ماہ دن اور6 ماہ رات رہتی ہو جس کی وجہ سے سورج کے طلوع اور غروب کے ذریعے اوقات کا تعین کرنا ممکن نہ ہو تو وہاں نماز، روزہ اور دیگر وقتی عبادات قریبی شہر یا علاقہ کے وقت کا اندازہ لگا کر ادا کرنا لازم ہوگا۔جس طرح نماز کے اوقات کا اندازہ کیا جاتا ہے، اسی طرح روزے کے لیے سحری اور افطار کا وقت متعین کیا جائے گا۔ لہٰذا صبح صادق اور غروب کا وقت قریبی معتدل علاقے کے مطابق مقرر کیا جائے گا اور اسی وقت سے روزہ شروع کیا جائے گا۔ یہی طریقہ دیگر وقتی عبادات اور معاملات میں بھی اختیار کیا جائے گا۔ ﻭاﻋﻠﻢ ﺃﻥ ﻣﺤﻞ ﻛﻮﻧﻬﺎ ﺧﻤﺴﺎ ﻓﻲ اﻟﻴﻮﻡ ﻭاﻟﻠﻴﻠﺔ ﻓﻲ ﻏﻴﺮ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﺟﺎﻝ، ﺃﻣﺎ ﻓﻴﻬﺎ ﻓﻘﺪ ﻭﺭﺩ ﺃﻥ ﺃﻭﻟﻬﺎ ﻛﺴﻨﺔ ﻭﺛﺎﻧﻴﻬﺎ ﻛﺸﻬﺮ ﻭﺛﺎﻟﺜﻬﺎ ﻛﺠﻤﻌﺔ، ﻭاﻷﻣﺮ ﻓﻲ اﻟﻴﻮﻡ اﻷﻭﻝ ﺑﺎﻟﺘﻘﺪﻳﺮ ﻭﻳﻘﺎﺱ ﺑﻪ اﻷﺧﻴﺮاﻥ ﺑﺄﻥ ﻳﺤﺮﺭ ﻗﺪﺭ ﺃﻭﻗﺎﺕ اﻟﺼﻼﺓ ﻭﺗﺼﻠﻰ، ﻭﻛﺬا اﻟﺼﻮﻡ ﻭﺳﺎﺋﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩاﺕ اﻟﺰﻣﺎﻧﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩﺓ ﻛﺤﻠﻮﻝ اﻵﺟﺎﻝ، ﻭﻳﺠﺮﻯ ﺫﻟﻚ ﻓﻴﻤﺎ ﻟﻮ ﻣﻜﺜﺖ اﻟﺸﻤﺲ ﻋﻨﺪ ﻗﻮﻡ ﻣﺪﺓ. نهاية المحتاج:١/٣٦٢ ﺻﺢ ﺃﻥ ﺃﻭﻝ ﺃﻳﺎﻡ اﻟﺪﺟﺎﻝ ﻛﺴﻨﺔ ﻭﺛﺎﻧﻴﻬﺎ ﻛﺸﻬﺮ ﻭﺛﺎﻟﺜﻬﺎ ﻛﺠﻤﻌﺔ، ﻭاﻷﻣﺮ ﻓﻲ اﻟﻴﻮﻡ اﻷﻭﻝ ﻭﻗﻴﺲ ﺑﻪ اﻷﺧﻴﺮاﻥ ﺑﺎﻟﺘﻘﺪﻳﺮ ﺑﺄﻥ ﺗﺤﺮﺭ ﻗﺪﺭ ﺃﻭﻗﺎﺕ اﻟﺼﻠﻮاﺕ ﻭﺗﺼﻠﻰ، ﻭﻛﺬا اﻟﺼﻮﻡ ﻭﺳﺎﺋﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩاﺕ اﻟﺰﻣﺎﻧﻴﺔ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻌﺒﺎﺩاﺕ ﻛﺤﻠﻮﻝ اﻵﺟﺎﻝ ﻭﻳﺠﺮﻱ ﺫﻟﻚ ﻓﻴﻤﺎ ﻟﻮ ﻣﻜﺜﺖ اﻟﺸﻤﺲ ﻃﺎﻟﻌﺔ ﻋﻨﺪ ﻗﻮﻡ ﻣﺪﺓ تحفة المحتاج :١/٤٢٨ ﻓﺄﻃﻠﻖ اﻟﺸﻴﺦ ﺃﺑﻮ ﺣﺎﻣﺪ ﺃﻧﻪ ﻳﻌﺘﺒﺮ ﺣﺎﻟﻬﻢ ﺑﺄﻗﺮﺏ ﺑﻠﺪ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﻭﻓﺮﻉ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺰﺭﻛﺸﻲ ﻭاﺑﻦ اﻟﻌﻤﺎﺩ ﺃﻧﻬﻢ ﻳﻘﺪﺭﻭﻥ ﻓﻲ اﻟﺼﻮﻡ ﻟﻴﻠﻬﻢ ﺑﺄﻗﺮﺏ ﺑﻠﺪ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﺛﻢ ﻳﻤﺴﻜﻮﻥ ﺇﻟﻰ اﻟﻐﺮﻭﺏ ﺑﺄﻗﺮﺏ ﺑﻠﺪ ﺇﻟﻴﻬﻢ حاشية الجمل :١/٢٧٠
فقہ شافعی سوال نمبر / 1232 اگر کوئی موذی مرض میں مبتلاء ہو جس کی وجہ سے مسلسل بے اختیار پیشاب جاری رہتا ہو اور وہ شخص طہارت کی حالت میں نہیں رہ سکتا ہو تو ایسے شخص کا قرآنِ مجید پڑھنے اور چھونے کا کیا مسئلہ ہے؟ ایسا بیمار شخص قرآنِ مجید پڑھ بھی سکتا ہے اور اسے ہاتھ میں لے بھی سکتا ہے۔ البتہ جب بھی قرآن ہاتھ میں لے گا اس سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے، اگر وضو کے بعد بے اختیار پیشاب جاری ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ وہ شرعی عذر میں داخل ہے۔ الإمام النووي فرماتے ہیں:ولها- أي لمستحاضة- قراءة لقرآن، وإذا توضأت استباحت مسَّ المصحف وحمله. (المجموع: ٥٤٢/٢) قال الامام العمراني: ومن به سلس البول والمذي.. حكمه حكم المستحاضة في الشد، والوضوء لكل صلاة؛ لأن ذلك من نواقض الوضوء، فهو كالاستحاضة. (البيان:٤١٦/١) ما دامت والدة السائل لا تستطيع أن تحافظ على وضوئها بسبب بعض الأمراض، وكانت غير حافظة للقرآن؛ فإنه يجوز لها تحت حكم الاضطرار- أن تقرأ من المصحف، ولكن بعد أن تتوضأ لمس المصحف، ولا يضرها نقض الوضوء بعد ذلك. (دار الإفتاء المصرية فتاوى رقم:٤٨٨٧)