فقہ شافعی سوال نمبر / 1334 اگر کسی عورت کا دو ماہ کا حمل ازخود ساقط ہو جائے یا کسی وجہ سے (اوبورشن) گیا جائے۔ اور خون جاری ہو جائے تو اس خون کا کیا مسئلہ ہے ایسی عورت کے لیے پاکی کا کیا مسئلہ ہے؟ شوافع کے نزدیک نفاس کا حکم ثابت ہونے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ ساقط ہونے والا حمل مکمل اعضاء والا ہو اور اس میں انسانی صورت واضح ہو، بلکہ مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) یا علقہ (جما ہوا خون) ساقط ہوجائے اور یہ یقین ہو کہ یہ انسانی تخلیق کا آغاز ہے اس کے بعد اس عورت کو خون جاری ہو جائے تو وہ خون نفاس کے حکم میں ہوگا، صورت مسئولہ میں دو ماہ کا حمل بھی اسی حکم میں ہوگا۔ ایسی عورت خون بند ہوجانے کے بعد غسل کرکے پاکی حاصل کرے گی۔ قال الإمام النووي رحمه الله:”وَسَوَاءٌ فِي حُكْمِ النِّفَاسِ، كَانَ الْوَلَدُ كَامِلَ الْخِلْقَةِ أَوْ نَاقِصَهَا أَوْ مَيْتًا، وَأَلْقَتْ مُضْغَةً أَوْ عَلَقَةً، وَقَالَ الْقَوَابِلُ: إِنَّهُ مُبْتَدَأُ خَلْقِ آدَمِيٍّ، فَالدَّمُ الْمَوْجُودُ بَعْدَهُ نِفَاسٌ” (روضة الطالبين وعمدة المفتين ١/١٧٤) قال الرملي:”وَأَوَّلُ وَقْتِهِ بَعْدَ خُرُوجِ الْوَلَدِ، وَقِيلَ أَقَلُّ الطُّهْرِ، وَإِنْ كَانَ عَلَقَةً أَوْ مُضْغَةً قَالَ الْقَوَابِلُ إنَّهُ مَبْدَأُ خَلْقٍ آدَمِيٍّ” (نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج ١/٣٥٦)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1333 امام نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد کسی سورت کے درمیان سے تلاوت شروع کرنا چاہے تو آیت شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے؟ اگر امام سورہ فاتحہ کے بعد شروع سورہ سے تلاوت کرے تو اس کے لیے بلند آواز بسم اللہ پڑھنا سنت ہے۔ امام سورہ فاتحہ کے بعد کچھ وقت خاموش رہے پھر درمیان سورہ سے تلاوت شروع کرے تو آہستہ آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا سنت ہے۔ البتہ کوئی درمیان سورہ سے تلاوت کے وقت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بلند آواز سے پڑھے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوگی قضيته أنه يسن للإمام الاتيان بالبسملة فيما لو سكت بعد الفاتحة السكوت المسنون، ثم ابتدأ من أثناء السورة (حاشية الشرواني: 2/33) قال الإمام سعيد باعشن؛ أنه لا يتعوذ ولا يبسمل أثناء السورة في الصلاة وقرره بعضهم على ما مر عن التحفة، فالبسملة في أثناء السورة ليست قرآنا إذ لا بسملة هناك، فيسر بها مطلقا في الصلاة كالتعوذ (بشرى الكريم:1/220) حاشية الجمل: 1/123 الغرر البهية: 1/104 حاشية الشبراملسي: 1/476